16

قیمتوں میں اضافے کے معاملے کی تحقیقات کے ساتھ ہی گیس بحران شدید

اسلام آباد: ملک میں ایک طرف جہاں حکومت گیس قیمتوں میں اضافے کے تنازع کی تحقیقات کر رہی ہے وہیں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے کیو-فلیکس کارگو کے لنگر انداز ہونے میں تاخیر سے گیس کی قلت میں شدید کمی ہوگئی ہے، جس سے تقریباً معیشت کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک سینئر حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’صورتحال بہت سنگین ہے، پاور پلانٹس، فرٹیلائزر پلانٹس، عام صنعت اور سی این جی سیکٹر کو پہلے ہی گیس کی فراہمی میں کمی کی جاچکی ہے اور ایس این جی پی ایل رہائشی اور کمرشل صارفین کی طلب کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایس این جی پی ایل نے یومیہ 400 ملین کیوبک فٹ ایل این جی کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے اور منگل تک موسم کی صورتحال کے باعث یہ فراہمی مزید کم ہوسکتی ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گیس قیمتوں کے تنازع کے معاملے پر منگل کو اجلاس طلب کیا ہے جبکہ اس کے بعد بدھ کو دوبارہ قائم کی گئی کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کا اجلاس ہوگا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ری گیسفکیشن کے لیے صرف خراب موسم اور 2 ٹرمنل کی ناقص منصوبہ بندی سے تعمیر کی وجہ سے صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ پیر کو تیز ہواؤں (18 نوٹس سے زائد) کے باعث پی ایس او کا بڑا کیو-فلیکس کارکو لنگر انداز نہیں ہوسکا جبکہ اگر ہوا کی رفتار 30 نوٹس سے زائد ہوئی تو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے چھوٹے کارگو کو بھی اسی طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’موسم کی صورتحال منگل سے مزید سنگین ہونے کا امکان ہے اور یہ 16 فروری تک جاری رہ سکتی ہے‘، ساتھ انہوں نے کہا کہ 2 کارگوز کے فوری طور پر لنگر انداز ہونے کو غیر یقینی صورتحال نے گھیر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) نے بتایا کہ پیر کی دوپہر سے اینگرو ٹرمنل پر ری گیسفکیشن کی شرح 660 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم کرکے 220 ایم ایم سی ایف ڈی کردیا گیا اور اگر پی ایل ایل کارگو منگل تک لنگر انداز نہیں ہوتا تو پاکستان گیس پورٹ ٹرمنل سے 420 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہو کر 220ایم ایم سی ایف ڈی تک ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس طرح ایس این جی پی ایل نظام کی کل فراہمی 1000 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہوکر 440 ایم ایم سی ایف ڈی ہوجائے گی اور یہ ایک سنگین مسئلہ ہے‘۔

ادھر ایس این جی پی ایل میں موجود ذرائع نے ڈان کو تصدیق کی کہ کمپنی نے پنجاب میں 3 ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کی فراہمی منقطع کردی جبکہ یہ فرٹیلائزر پلانٹس اور سی این جی سیکٹرز کی فراہمی منقطع کرسکتی ہے۔

اس حوالے سے سی این جی اور دیگر شعبوں کو جاری نوٹس میں کہا گیا کہ ’اس بات سے مطلع کیا جاتا ہے کہ پی ایس او کارگو کو پیر کو لنگر انداز ہونا تھا لیکن تیز ہواؤوں کے باعث یہ نہیں ہوسکا جبکہ ای ای ٹی پی ایل پر بھی ایل این جی کارگو کے لنگرانداز ہونے میں تاخیر کے باعث ری گیسفکیشن کی شرح واضح طور پر کم ہوئی ہے، ساتھ ہی یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ کمپنی گیس کی فراہمی منقطع کرنے پر مجبور ہوگی‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں