45

برطانیہ فوجی مقاصد کے لیے ’ڈرونز کے جھنڈ‘ تیار کر ے گا

برطانیہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ دشمن کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر زیر کرنے کے لیے ڈرون کے ‘سوارم سکواڈرن’ یا جھنڈ تیار کیے جائیں گے۔

وزیر دفاع گیون ولیمسن نے کہا کہ سنہ 2019 کے اختتام تک برطانیہ اس قسم کے خصوصی ڈرون تیار کر چکا ہو گا۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ برطانیہ کو ایک زیادہ مضبوط اور زیادہ جارحانہ مسلح افواج کی ضرورت ہے جسے وہ ایک بڑی فوجی قوت کے طور پر استعمال کر سکے۔

رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے گیون ولیمسن نے کہا کہ برطانیہ کو ان طاقتوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے جو ’بین الاقوامی قوانین کو پامال‘ کر رہی ہیں۔

مسٹر ولیمسن نے کہا کہ یورپ سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کے پاس ایک موقع ہو گا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے وجود کو تسلیم کروائے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں برطانوی فوج کے سائبر شعبے کو مضبوط کیا جائے گا تاکہ یہ نا صرف برطانیہ کا موثر دفاع کر سکے بلکہ دشمن پر حملہ کرنے کے قابل بھی ہو۔

موجوزہ ڈرون کے جھنڈ بنانے کے منصوبے پر ایک اندازے کے مطابق ستر لاکھ پاؤنڈ خرچ ہوں گے۔

وزیر دفاع نے تصدیق کی کہ برطانوی بحریہ کے نئے طیارہ برادر بحری بیڑے ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ کو بحرالکاہل میں تعینات کیا جا رہا ہے جہاں چین اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مفادات کے دفاع کے لیے اپنی جنگی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار رہیں۔

انھوں نے کہا کہ روس اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا اور دوبارہ ایک بڑی قوت بن کر ابھر رہا ہے، جبکہ چین بھی اپنی صلاحیتوں میں جدت لا رہا ہے اور اپنی تجارتی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گیون ولیمسن کو اپنے بین الاقوامی اہداف حاصل کرنے میں کافی مشکل پیش آئے گی کیونکہ برطانوی مسلح افواج تعداد کے لحاظ سے چھوٹی ہیں اور ان پر پہلے ہی اخراجات ضرورت سے زیادہ ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب کچھ برطانوی ارکان پارلیمان کا خیال ہے کہ وزارتِ دفاع کا ساز و سامان خریدنے کا ایک سو اسّی ارب پاؤنڈ کا منصوبہ ملکی معشیت پر ایک بڑا بوجھ ہے، لیکن ولیمسن اس کو کم کرنے کی بجائے اخراجات بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔

ارکان پارلیمان کے مطابق ڈرونز کے جھنڈ کے بارے میں وزارتِ دفاع کا خیال ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بنی بنائی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن حقیقت میں اس طرح کے نظام کو ابھی تک کہیں آزمایا نہیں گیا اور نہ ہی استعمال کیا گیا ہے۔

کئی ممالک میں برطانیہ کی فوجی مداخلت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے مسٹر ولیمسن کا کہنا تھا کہ کسی عالمی بحران میں کوئی عملی اقدام نہ اٹھانے کے نتائج اکثر ’ناقابلِ قبول حد تک برے‘ ہوتے ہیں اور ’جب دوسرے لوگ مصیبت میں ہوں‘ تو مغربی طاقتیں حالات سے نظر نہیں چرا سکتیں۔

وزیر دفاع کے بقول صرف باتیں بنانے اور وقت پر موثر کارروائی نہ کرنے سے ہماری قوم کو محض’ کاغذی شیر’ تصور کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں