14

شہباز شریف نے قومی اسمبلی کی 3 کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے حکومت کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ زور پکڑنے پر قومی اسمبلی کی 3 قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا۔

شہباز شریف کا استعفیٰ دینے کے فیصلے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ’سرکلر‘ میں لکھا تھا کہ ’اسپیکر (اسد قیصر)، میاں محمد شہباز شریف، اپوزیشن لیڈر، کی درخواست پر ان کا نام انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ، لاء اینڈ جسٹس اور کشمیر امور و گلگت بلتستان کی کمیٹیوں سے نکالنا چاہتے ہیں‘۔

مسلم لیگ (ن) میں ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ شہباز شریف نے یہ فیصلہ خود سینیئر پارٹی رہنماؤں کی تجویز پر لیا ہے جن کا یہ ماننا ہے کہ پارٹی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر ایسے اجلاس میں شرکت کریں جس کی صدارت ان کی جماعت یا حکمراں جماعت کے رکن کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر اپوزیشن لیڈر ان کمیٹیوں کے رکن نہیں بنتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت ان الزامات کی بھی نفی ہو گی جن کے تحت شہباز شریف قومی احتساب ادارے (نیب) کی خراست سے بچنے کے لیے زیادہ تر کمیٹیوں کا رکن بننا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ شہباز شریف گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب کی حراست میں اور وہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جانے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت بھی کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کرنے کی اجازت دینے کی مخالفت کرنے والا تحریک انصاف کے ایک گروہ نے عمران خان کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس گروپ نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے لچک دکھانے اور شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر بننے کی اجازت دینے کے باوجود اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں احتجاج کم نہیں کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اسی گروہ نے اسپیکر قومی اسمبلی سے 18 فروری سے شروع ہونے والے اجلاس کے لیے شہبار شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر زور دیا تھا۔

تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں اور وزیر ریلوے شیخ رشید نے کئی مواقع پر بیان دیا ہے کہ شہباز شریف رضاکارانہ طور پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت کا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے پنجاب کے سینیئر وزیر علیم خان کو نیب کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے رضاکارانہ استعفے کے نتیجے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مطالبہ مزید زور پکڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں