35

کراچی:یونین کونسل کے دفتر میں فائرنگ، ایم کیو ایم کارکن جاں بحق

کراچی کے علاقے نیو کراچی میں یونین کونسل نمبر 6 کے دفتر میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا ایک کارکن جاں بحق اور یونین کونسل کا ایک ملازم شدید زخمی ہوگیا۔

ڈی ایس پی نیو کراچی ارشاد علی بھٹو کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے کارکن اور دیگر افراد ‘مصالحتی کمیٹی’ کے اجلاس میں شریک تھے کہ 6 مسلح موٹر سائیکل سوار وہاں پہنچے اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔

ڈی ایس پی نیو کراچی کا کہنا تھا کہ حملہ آور کلاشنکوف اور پستول سے لیس تھے جو جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 60 سالہ اعظم ظہور اور 40 سالہ شکیل انصاری زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈی ایس پی نیو کراچی ارشاد علی بھٹو نے کہا کہ اعظم ظہور یونین کونسل کے ملازم تھے، جبکہ شکیل ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن تھے۔

بعد ازاں ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سلیم شیخ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شکیل انصاری دوران علاج عباسی شہید ہسپتال میں دم توڑ گئے، جنہیں 3 گولیاں لگی تھیں۔

ڈاکٹر سلیم شیخ کا کہنا تھا کہ زخمی اعظم ظہور کی حالت بھی تشویش ناک ہے اور انہیں سینے پر ایک گولی لگی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ یو سی آفس نمبر 6 میں 4 سے 5 مسلح افراد داخل ہوئے اور دفتر میں موجود افراد پر گولیاں چلائیں، جس سے 2 افراد زخمی ہوئے۔

خواجہ اظہار نے کہا کہ زخمیوں میں شامل شکیل انصاری دم توڑ گئے ہیں، انہوں نے واقعے کی فوری انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ دفتر کو رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری اور خواجہ اظہارالحسن عوامی مسائل سننے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور فائرنگ کے وقت اتفاقاً دونوں رہنما دفتر میں موجود نہیں تھے۔

ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے اس کا مقصد کراچی کے امن کو تباہ کرنا ہے۔

پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے اپنے بیان میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اس موقع پر ہم ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے عباسی شہید ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت واقعے کی فوری تحقیقات کرے اور 48 گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایم کیو ایم کے کارکنان کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے، علی رضا عابدی کے قاتل اب تک گرفتار نہیں ہوسکے، حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اسامہ قادری اور خواجہ اظہار کے دفتر پر فائر کی گئی اور اس واقعے میں ایک کارکن شہید اور ایک زخمی ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر قاتل گرفتار نہیں ہوتے تو پھر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں ارکان اسمبلی کے دفترپر حملے اور کارکن کی شہادت پر یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کارکن کی شہادت پر تین دن تک تمام تنظیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں