39

جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے، ہمیں علم نہیں، سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث سعودی ٹیم کو حراست میں لیے جانے کے باوجود ہمیں جمال خاشقجی کی لاش کا علم نہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’ اے ایف پی ‘ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عدل الجبیر نے کہا کہ سعودی حکام نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے جمال خاشقجی کو قتل کیا اور ان 11 افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’ فیس دی نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں جمال خاشقجی کی لاش سے متعلق سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’ ہمیں علم نہیں‘۔

عادل الجیبر نے کہا کہ جمال خاشقجی کے قتل کیس کے پروسیکیوٹر نے ترکی سے شواہد ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سعودی عرب میں زیر حراست افراد کی جانب سے جمال خاشقجی کی لاش سے متعلق نہ بتانے سے متعلق سوال کے جواب میں سعودی وزیر خارجہ نےکہا کہ ’ ہم تاحال تحقیقات کررہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس حوالے سے کئی امکانات ہیں اور ہم تحقیقات کررہے ہیں کہ انہوں نے لاش کے ساتھ کیا کیا‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں سمجھتا کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہم سچ جان کر رہیں گے‘۔

عادل الجبیر کا انٹرویو 8 فروری کو لیا گیا تھا جسے گزشتہ شب نشر کیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی 8 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی ڈیڈلائن نظر انداز کردی تھی جس میں انہیں بتانا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ناقد جمال خاشقجی کو کس نے قتل کیا تھا۔

خیال رہے کہ 8 فروری کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ استنبول میں قائم قونصل خانے میں قتل سے ایک برس قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نامعلوم ذرائع پر مبنی رپورٹس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم جانتے ہیں کہ سعودی ولی عہد نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا،یہ سرکاری طور پر منظور شدہ آپریشن نہیں تھا‘۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد کی بات چیت کو حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے سے متعلق ٹھوس شواہد کی تلاش کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہسعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے ماتحت ترکی الدخیل کے درمیان بات چیت ستمبر 2017 میں جمال خاشقجی کے قتل سے 13 ماہ قبل ہوئی تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر جمال خاشقجی سعودی عرب واپس نہیں آتے تو انہیں طاقت کے زور پر واپس لایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی طریقہ کام نہیں کرتا تو پھر ہم ان کے خلاف ہتھیار کا استعمال کریں گے۔

یہ بات چیت اس وقت کی گئی تھی جب سعودی حکام جمال خاشقجی کی جانب سے کی گئی تنقید پر کافی برہم تھے اور اسی ماہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم نگاری کا آغاز کیا تھا۔

جمال خاشقجی کا قتل اور بعد میں کیا ہوا؟
خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو وہ اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آئے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر 2018 کو سعودی صحافی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

بعد ازاں سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے ‘قربانی کا کوئی بکرا’ ڈھونڈ ہی لیں گے۔

دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

نومبر 2018 میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔

گزشتہ ماہ 3 جنوری 2019 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی عدالت میں سعودی صحافی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت ہوئی تھی جس کے دوران اٹارنی جنرل نے 11 میں سے 5 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیٹریس نے جمال خاشقجی کے قتل کی ’قابلِ اعتبار‘ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔جمال خاشقجی کا قتل اور بعد میں کیا ہوا؟ خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو وہ اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آئے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر 2018 کو سعودی صحافی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

بعد ازاں سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے ‘قربانی کا کوئی بکرا’ ڈھونڈ ہی لیں گے۔

دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

نومبر 2018 میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔

گزشتہ ماہ 3 جنوری 2019 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی عدالت میں سعودی صحافی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت ہوئی تھی جس کے دوران اٹارنی جنرل نے 11 میں سے 5 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیٹریس نے جمال خاشقجی کے قتل کی ’قابلِ اعتبار‘ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بعد ازاں اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے لیے عالمی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی تھی، جنہوں نے ترکی کا دورہ کیا اور گزشتہ ہفتے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ جمال خاشقجی کا قتل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں