38

’شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے پر معاملات سنگین ہوسکتے ہیں‘

سیالکوٹ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وزیر کی جانب سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سربراہی چھوڑنے سے متعلق کیے جانے والے مطالبے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے کسی بھی اقدام سے ’معاملات سنگین شکل اختیار کر جائیں گے‘۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کنٹینر پر چڑھنا نہیں چاہتے لیکن ہم حکومتی معاملات کو چلانے میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے لاہور میں ایک نمائش کے دوران بیان دیتے ہوئے شہباز شریف سے کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما عبدالعلیم خان نے وزارت سے استعفی دے کر ایک مثال قائم کی، اسی طرح شہباز شریف کو بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔

خیال رہے کہ علیم خان نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے بدعنوانی کے الزام میں حراست میں لیے جانے پر فوری طور پر سینئر صوبائی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی اسی الزام کے تحت نیب کی حراست میں ہیں اور اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے بعد انہوں نے پی اے سی کے اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے امورِ سیاست نعیم الحق کا کہنا تھا کہ حکومت صرف اس صورت شہباز شریف کو پی اے سی کی سربراہی جاری رکھنے کی اجازت دے گی جب وہ ’حلف نامہ پیش کریں‘۔

یہ بات انہوں نے صحافیوں کے اس سوال کے جواب میں کہی جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے امکانات کے حوالے سے پوچھا تھا۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم بلوکی میں ہونے والی شجرکاری تقریب میں کچھ پریشان نظر آئے، جہاں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت بدعنوان سیاستدانوں کو کوئی رعایت نہیں دے گی۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر کا کہنا تھا کہ موجود صورتحال میں نظام کو خطرات لاحق ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ نظام چلے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ حکومت بس کرنسی نوٹ چھاپے جارہی ہے اور اب تک 14کھرب روپے کے کرنسی نوٹ چھپ چکے ہیں۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے ابھی تک ان وعدوں پر عمل نہیں کیا جو وہ پچھلے 22 سال سے کرتے آرہے ہیں، معاشی ماہرین انہیں چھوڑ کر جارہے ہیں اور پہلی مرتبہ ایک وزیراعظم نے خود آئی ایم ایف سے قرضے کی درخواست کی۔

قومی مفاہمتی آرڈیننس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ صرف وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کو این آر او دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ڈاکٹرز کی تجاویز کی روشنی میں مکمل طبی سہولیات ملنی چاہیے، اگر انہیں عدالت سے ضمانت مل جاتی ہے تو مسلم لیگ (ن) ان کے بیرونِ ملک علاج کی کوشش کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں