17

افغانستان: فضائی حملوں میں خواتین، بچوں سمیت 21 افراد ہلاک

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں ہونے والے دو فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 21 شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق افغان سینیٹر محمد ہاشم الکوزئی کا کہنا تھا کہ ہلمند میں ایک فضائی حملے میں 13 شہری اور دوسرے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں حملے ایک روز قبل رات گئے ہملند کے ضلع سانگن میں ہوئے جہاں نیٹو کی حمایت افغان فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

محمد ہاشم الکوزئی نے بتایا کہ فضائی حملوں میں دیگر 5 افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’ معصوم افراد خواتین اور بچے ہی فضائی حملوں کے واحد متاثرین ہیں‘ جبکہ ملٹری آپریشنز کی وجہ سے عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان عمر زواک کا کہنا تھا کہ جنگجوؤں نے ایک شہری علاقے سے افغان فورسز پر فائرنگ کی تھی۔

انہوں نے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

محمد ہاشم الکوزئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اور حکومتی حکام سے شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا۔

مزید برآں طالبان نے ہفتے کی شب افغانستان کے مشرقی صوبے سر پل میں ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 8 افغان اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ امانی نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں مزید 3 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ افغانستان کے مغربی صوبے میں طالبان نے سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملیشیا کی چیک پوسٹوں پر 2 الگ الگ حملوں کیے تھے جس کے نتیجے میں 21 اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ پکتیا میں بم دھماکے میں 8 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

قبل ازیں طالبان نے 5 جنوری کو بھی قندھار میں ایک حملے میں افغان بارڈر پولیس کے 7 اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2018 کے ابتدائی 9 ماہ میں افغانستان میں 8 ہزار 50 افراد مارے گئے یا زخمی ہوئے۔

امریکا سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں کی جانب سے طالبان کو 17 سالہ جنگ ختم کرکے امن کے قیام کی جانب مائل کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں اور افغانستان میں امن کی بحال کے لیے پاکستان، ترکی، ایران، روس، چین اور دیگر ممالک طالبان سے مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

مزید برآں دسمبر 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 سال بعد افغانستان سے فوجی انخلا کا عندیہ دیتے ہوئے اپنی نصف فوج کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رواں ماہ ماسکو میں طالبان اور افغان رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں افغانستان میں قیام امن پر بات ہوئی جبکہ طالبان کا کہنا تھا کہ امریکا رواں سال نصف فوج کم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں