18

سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں اب بہترین موقع ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کے حالات کو موافق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آگے بڑھنے کا یہی بہترین موقع ہے اور ملک میں سرمایہ کار آرہے ہیں۔

دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ خوشی ہے اسلامی ممالک میں بھی ایسی کانفرنس ہورہی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم دنیا میں عطیات دینے والے سرفہرست پانچ ممالک میں سے ہیں لیکن ٹیکس دینے میں بہت پیچھے ہیں کیونکہ عوام حکومت پر اعتبار نہیں کرتے تھے اور سمجھتے تھے ان کے ٹیکس کو ضائع کیا جارہا ہے اور حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن ٹیکس کے پیسوں سے کی جاتی ہے اس لیے عوام حکومتوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے اور ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوموں کی تاریخ میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں اور جب اصلاحات کی جاتی ہیں تو عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہم نے اصلاحات متعارف کرادی ہیں۔

حکومتی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے، درآمدات میں کمی اور بجٹ خسارے کو محدودکر رہے ہیں اور موجودہ مسائل سے نکلنے کے لیے تکلیف دہ اصلاحات ناگزیرہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینہ میں قائم کی گئی اور مدینہ کی ریاست انسانیت اور انصاف کے عظیم اصولوں کی بنیاد پر رکھی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شکست اس وقت ہوتی ہے جب آپ ہارمان جاتے ہیں لیکن ترقی کی بنیاد ہی بہتر طرزحکمرانی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ہیومن ڈیولپمنٹ صحت اور تعلیم اور پہلی مرتبہ ماحولیاتی تبدیلی پر پیسہ خرچ کررہے ہیں۔

خبیر پختونخوا (کے پی) میں اپنی گزشتہ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں عوام کسی بھی حکومت کو دوسرا موقع نہیں دیتے تھے لیکن ہمیں موقع دیا کیونکہ 5 سال کے اختتام پرآدھی غربت ختم ہوگئی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ ہم بہترین اصلاحات لارہے ہیں جب اصلاحات لاتے ہیں تو عوام کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ یہ سرجری کی طرح ہوتے ہیں لیکن جب اس دور سے باہر نکلتے ہیں تو ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کار آرہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس وقت سے ترقی کرے گا کیونکہ ہم نے کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لوگ جب سرمایہ کاری کرتے ہیں تو منافع کمانا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں اور ٹیکس معاملات میں تبدیلیاں لارہے ہیں۔

دبئی میں خصوصی استقبال
وزیر اعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر جب دبئی پہنچے تو ابوظہبی کے ولی عہد نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم کا خصوصی استقبال کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے تفصیلی ملاقات کی۔

ولی عہد محمد بن زید نے وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا
ملاقات کے دوران باہمی اور عالمی مفاد سے متعلق امور پر گفتگو اور اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق عمران خان متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی دعوت پر دبئی کے دورے پر گئے ہیں۔

حکومتی سربراہان، پالیسی سازوں اور ماہرین کی سالانہ کانفرنس میں اصلاحات، جدت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے حکومت کو بہتر بنانے کے معاملات پر بحث کا موقع ملے گا۔

دورے کے دوران وزیراعظم کی پاکستان انٹرنیشنل مانیٹری (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے سے بھی ملاقات متوقع ہے جس میں پاکستان کو دیے جانے والے بل آؤٹ پروگرام کی شرائط پر گفتگو کی جائے گی۔

وزیر اعظم کے ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر خزانہ اسد عمر بھی موجود ہیں۔

کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں وزیر اعظم مضبوط اور خوشحال پاکستان کے اپنے وژن کو پیش کر کے شرکا کی پاکستان معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کریں گے۔

ممتحدہ عرب امارات روانگی سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے خصوصاً پاکستان میں طرز حکمرانی ایک اہم مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خراب طرز حکمرانی کے سبب اس وقت ملک کو متعدد مسائل کا سامنا ہے اور وزیر اعظم اداروں کی بہتری کے لیے اصلاحات اور تازہ ماڈل متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

آئی ایم ایف کے سربراہ سے ملاقات کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایسی شرائط کے ساتھ آگے بڑھے جس سے عوام پر کوئی ناروا بوجھ نہ پڑے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات
آئی ایم ایف نے پاکستان سے آئندہ تین سے چار سال میں 1600 سے 2 ہزار ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو دیکھتے ہوئے مثبت اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی معیشت کو درست راہ پر لایا جا سکے۔

تاہم مذاکرات میں سب سے بڑا مسئلہ موجودہ اخراجات میں ایڈجسٹمنٹ کی رفتار ہے اور ایک مذاکرات میں شریک ایک سینئر حکام نے کہا کہ اخراجات میں کمی کی گنجائش موجود ہے جس سے پاکستان بہتر پوزیشن میں ہو گا البتہ یہ سیاسی طور پر ایک مشکل فیصلہ ہو گا۔

موجودہ اخراجات میں کمی کے باعث حکومت کو شدید مسائل اور تنقید کا سامنا ہے جہاں اس نے مختلف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈیز اور خصوصی گرانٹس میں کمی کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں