28

آخر وائے ایم سی اے میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہو ہی گئیں

18 جنوری کراچی سے تعلق رکھنے والے مختلف کھیلوں کے کھلاڑیوں کے لیے ایک یادگار دن ثابت ہوا کیونکہ اس دن، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں 16 برس کے وقفے کے بعد ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن (وائے ایم سی اے) کے میدان پر کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔

سپریم کورٹ نے سندھ کے دارالحکومت کے لیے یہ بہت ہی زبردست خدمت انجام دی ہے۔ یہ کام حکومت اس لیے نہیں کرسکی کیونکہ وائے ایم سی اے (سیکیورٹی) ریڈ زون کی حدود میں ہے اور یہ گورنر ہاؤس کے سامنے واقع ہے۔ شہر کے ایتھلیٹس، بشمول ضلع جنوبی کی رہائشی خواتین ایتھلیٹس اس فیصلے کے لیے سپریم کورٹ کی شکرگزار ہیں۔

2003ء میں اس ادارے کے 2 مخالف گرہوں میں سے ایک نے اس کا کنٹرول سنبھالا تو (وائے ایم سی اے) کے وسیع میدان پر قبضہ کرلیا گیا اور تمام قوانین و ضوابط کو توڑتے ہوئے شادی کی تقاریب کے لیے استعمال کرنے اجازت دے دی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سر عبداللہ ہارون مسلم جیم خانہ کو شادی کی تقاریب کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ماضی میں یہ جگہ کرکٹ میچوں کے انعقاد کے لیے استمعمال کی جاتی تھی اور اس کے علاوہ کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن (کے سی اے) کا دفتر بھی یہیں تھا۔

وائے ایم سی اے، مسلم جیم خانہ، ریلوے گراؤنڈ اور گارڈن میں واقع پولیس گراؤنڈ جیسی کھیلوں کی جگہیں گزشتہ 15 سے 20 برسوں سے بند ہیں، جس کے سبب روزانہ سہہ پہر کے وقت مختلف کھیلوں کی پریکٹس کرنے والے کھلاڑیوں کو بہت ہی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تمام مقامات 2 کلومیٹر کے دائرے کے اندر ایک دوسرے سے کافی قریب قریب واقع ہیں۔

مجھے اب بھی وائے ایم سی اے کے وہ سنہرے دن یاد ہیں۔ اسکولوں کے درمیان ہونے والے مقابلوں کے موقعے پر بطورِ نوجوان ایتھلیٹ مجھے میرے پہلے سرٹیفکیٹ سے اسی مقام پر 1968ء میں نوازا گیا تھا۔

جارج ڈبلیو ڈاس کئی برسوں تک وائے ایم سی اے کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی ٹیم میں دیگر کے علاوہ ولبرن بیڈ اور ہمیشہ مسکراتے ظفر جے شکتی شامل تھے، بعدازاں یہ دونوں صاحبان جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ بدقسمتی سے اس زمانے کے آخری شخص شکتی گزشتہ برس طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

ثاقب وہاب الدین اور ریاض احمد نے برسوں تک وائے ایم سی اے کی اسپورٹس کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر دل و جان سے خدامات انجام دیں۔ دفتری ریکارڈز کے مطابق رام باغ کوارٹرز کے مرکزی علاقے میں واقع 36,955 مربع یارڈز پر محیط وائے ایم سی کو 1913ء میں کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کرانے کے حقوق دیے گئے تھے۔ ملک کی آزادی کے بعد وائے ایم سی اے 5 دہائیوں سے زائد عرصے تک شہر کے اہم اسپورٹس مراکز میں سے ایک کے طور پر خدمات انجام دیتا رہا اور پھر یہاں کچھ لوگوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد بند کروادیا۔

اس زمانے کے نوجوان کافی خوش قسمت تھے کیونکہ ان کے پاس روزانہ ایسے نامور اعزازی کوچز کی زیرِ نگرانی کھیلوں کی پریکٹس کے لیے میدانوں تک رسائی تھی، جو ان کی تربیت کرکے انہیں اسٹار میں بدل دیتے تھے۔ اس دور میں مختلف کھیلوں کے کئی مقابلے ہوا کرتے تھے، جن میں ڈائیریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کے زیرِ سرپرستی ہونے والے سالانہ انٹر اسکول مقابلے بھی شامل تھے، اور وہاں کچھ بہت ہی دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملتے تھے۔

ڈی جے سائنس کالج، نیشنل کالج، گورنمنٹ کامرس کالج، ایس ایم سائنس اینڈ آرٹس کالج اور پریمیئر کالج جیسے شہر کے کئی کالجوں کے ڈائریکٹرز برائے فیزیکل ایجوکیشن غیر معمولی اسپورٹس صلاحیتوں کے حامل کھلاڑیوں کی تلاش اور فرسٹ ایئر داخلہ کے خواہاں کھلاڑیوں کو فری شپ کی پیش کش کرنے کے لیے اکثر و بیشتر وائے ایم سی اے آیا کرتے تھے۔

پھر جب ایتھلیٹس اپنا انٹرمیڈیئٹ پاس کرلیتے اور اسپورٹس کوٹا پر این ای ڈی اور کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے خواہاں ہوتے تو یہی مشق دہرائی جاتی۔

ان دنوں میں انٹر اسکول، انٹر کالج اور انٹر یونیورسٹی مقابلے اپنا لوہا منوانے اور پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے لیے اپنی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہوتے تھے۔ کراچی کے تمام ایتھلیٹس اسی طرح تعلیمی راستے سے ابھر کر سامنے آیا کرتے تھے کیونکہ ان دنوں کسی قسم کا شارٹ کٹ نہیں تھا۔

وائے ایم سی اے ٹریک اور فیلڈ، ہاکی، فٹ بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، ٹینس اور مرد و خواتین دونوں کے لیے مارشل آرٹس کی سہولیات فراہم کیا کرتا تھا۔ وہاں کی کنیٹین بھی ایتھلیٹس اور کھیلوں کے منتظمین میں کافی مقبول تھی۔

ایتھلیٹکس
اگرچہ وائے ایم سی اے میں معیار کے مطابق 400 میٹر ٹریک کے بجائے 300 میٹر ٹریک تھا، مگر اس کے باوجود بھی یہ جگہ آزادی کے بعد سرگرمیوں کا اہم مرکز بنی رہی اور کچھ ایسے زبردست ایتھلیٹس پیدا کیے جنہوں نے آگے جاکر پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔

سینئر بین الاقوامی ایتھلیٹ محمد طالب بھی ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم، جہاں 400 میٹر ٹریک ہے، سے منسلک ہونے اور 1977ء میں اپنا ایتھلیٹک اسکول شروع کرنے سے قبل وائے ایم سی اے میں تربیت دیا کرتے تھے۔ منصور علی خان عرف استاد، عابد حسین، ارشد سلیم، افتخار حسین، علی کامانی، جول اینڈریو، کلیم اللہ فاروقی، مائیکل گومز، احمد عبدالعزیز، وکیل ناصر اور عثمان ناگی ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں وائے ایم سی اے گروپ کے طور پر جانا جاتا تھا، انہوں نے صحت بخش سرگرمیوں کی روایت کو برقرار رکھا۔

ہاکی
حبیب پبلک اسکول کے سابق ڈائریکٹر اسپورٹس صبیح عباس 1976ء سے 2003ء تک اسی اسکول سے منسلک رہے اور اپنے ابتدائی عرصے میں انہوں نے کئی دیگر ہاکی کے ستاروں کے علاوہ پاکستان ہاکی ٹیم کو شاہد علی خان، منصور احمد اور احمد عالم کی صورت میں 3 عالمی سطح کے گول کیپرز دے کر مثال قائم کی۔ یہ تینوں سابق اولمپینز ہیں۔ وائے ایم سی اے کے بینر تلے بینفٹ میچ کی روایت کا آغاز کرنے کا سہرا بھی عباس کے سر جاتا ہے۔

سب سے پہلا بینیفٹ میچ 1978ء میں سابق اولمپئن پی پی فرنانڈس کے لیے منعقد ہوا تھا۔ پی پی فرنانڈس نے 1936ء میں برلن میں غیر منقسم ہندوستان اور 1948ء میں لندن میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ دوسرا مشترکہ بینیفٹ میچ 1980ء میں حبیب الرحمٰن اور لطیف الرحمٰن کے لیے منعقد کیا گیا۔

وومین ہاکی
ماسٹر اظہر فتح پوری ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے 4 دہائیاں قبل وائے ایم سی اے میں مظہر اسپورٹس کے تحت وومین ہاکی کی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

فتح پوری سے تربیت حاصل کرنے والی لڑکیاں اس قدر شاندار تھیں کہ ان میں سے زیادہ تر کراچی، سندھ اور پاکستان کی ٹیموں کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئیں۔

ڈاکٹر اے آر خان اور ان کی اہلیہ اپنے 3 بچوں کے ہمراہ باقاعدگی کے ساتھ وائے ایم سی اے آیا کرتے تھے، ان کی بیٹی شائستہ اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آرگنائزر بنیں۔

باسکٹ بال
سابق بین الاقوامی کھلاڑی محمد خان نے دہائیوں تک وائے ایم سی اے میں باسکٹ بال کے کھیل کا سلسلہ قائم رکھا۔ یہ ادارہ اس کھیل کا اہم مرکز رہ چکا ہے۔ خان کے بیٹے جاوید بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اور اپنے والد کی لیگیسی کو جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، مارشل آرٹس
یہاں جوسپائن الیگزینڈر بینڈ منٹن، سلطان احمد ٹیبل ٹینس اور سیئنر انسٹرکٹر اقبال مارشل آرٹس کا انتظام سنبھالتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا ٹینس کورٹ گورنر ہاؤس کے داخلی دروازے کے قریب موجود ہوتا تھا۔

یہاں کشمنر کراچی افتخار شلوانی اور ڈی سی جنوبی سید صلاح الدین احمد تعریف کے مستحق ہیں جنہوں نے فوری طور پر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کیا اور ساتھ ہی ساتھ وائے ایم سی اے کی بحالی کے موقعے پر 18 جنوری کو نمائشی ہاکی میچ کا انعقاد بھی ممکن بنایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں