18

ہتک عزت کیس میں علی ظفرعدالت پیش نہ ہوسکے

پاکستانی اداکار و گلوکار علی ظفر پر گزشتہ برس اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

میشا شفیع کا کہنا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایک سے زائد بار ایک ایسے وقت میں جنسی طور پرہراساں کیا جب وہ مشہور ہو چکی تھیں۔

علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیا تھا۔

دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری بھی تقسیم ہوگئی تھی، بعض افراد نے میشا شفیع اور کچھ افراد نے علی ظفر کا ساتھ دیا تھا۔

بعد ازاں علی ظفر نے میشا شفیع پر جھوٹے الزامات لگانے پر لاہور کی مقامی عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔

اسی مقدمے کی سماعتیں بھی گزشتہ برس سے جاری ہیں، تاہم 9 فروری کو ہونے والی سماعت میں خود علی ظفر ہی عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔

عزت کیس کی سماعت سیشن کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد نے کی اور انہوں نے علی ظفر کی جانب سے پیش کیے گئے 2 وکلا کے بیان قلم بند کیے۔

آج کی سماعت میں علی ظفر کو روبرو پیش ہوکر شہادت قلمبند کروانے تھے، تاہم وہ خود پیش نہ ہوسکے۔

علی ظفر کی جانب سے ان کی وکیل امبرین قریشی عدالت میں پیش ہوئیں اور انہوں نے عدالت کو کیس سے متعلق آگاہ کیا۔

عدالت نے مختصر کارروائی کے دوران علی ظفر کی جانب سے پیش کیے گئے 2 گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کیے، تاہم بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت رواں ماہ 26 فروری تک ملتوی کردی۔

عدالت نے آئندہ سماعت میں علی ظفر کے دونوں گواہوں کو بھی دوبارہ طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے اسی کیس کی سماعت میں 2 بار میشا شفیع بھی پیش نہ ہوسکی تھیں۔

گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع پر 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں