15

پی اے سی چیئرمین شپ: شہباز شریف کو ہٹانے کیلئے حکومت قانونی تجاویز کی منتظر

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کے ساتھ کسی ’ڈیل‘ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے لیے قانونی راستے تلاش کریں۔

عمران خان کی جانب سے یہ بات پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران کی گئی۔

بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ’ہم شہباز شریف کو گھر بھیجنے کے لیے کچھ قانونی طریقے تلاش کر رہے ہیں‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 22 دسمبر کو پی ٹی آئی کی رضا مندی سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، پی اے سی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے لیکن اب اچانک حکمران جماعت کی جانب سے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے یہ بھی باور کرایا تھا کہ حکومت کسی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کی طرح کی ڈیل نہیں کرنے جارہی۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوگی‘۔

وزیر اعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان سے کس نے این آر او مانگا اور کیوں جبکہ وہ اور دیگر پی ٹی آئی کے رہنما بار بار کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہونے جارہی۔

تاہم کچھ روز قبل قومی اسمبلی میں وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے 7 رہنماؤں نے این آر او کے لیے ان سے رابطہ کیا، تاہم انہوں نے ان رہنماؤں کے نام ظاہر نہیں کیے تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ شہباز شریف پی اے سی کو اپنے خلاف کرپشن کے کیسز میں بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں لہٰذا پی اے سی کے سربراہ کے طور پر ان کے فیصلے پی ٹی آئی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ شہباز شریف کرپشن کے بڑے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور بطور چیئرمین پی اے سی وہ قومی احتساب بیورو (نیب) پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’جس طرح شہباز شریف نیب حکام کو کمیٹی اجلاس میں بلاتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی اے سی کی ڈھال کے پیچھے تحفظ چاہتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ پی اے سی ایک اعلیٰ پارلیمانی فورم ہے جو حکومت کی آمدنی و اخراجات کا آڈٹ کرتا ہے اور یہ پارلیمنٹ کی سب سے طاقتور اور اہم ترین کمیٹی تصور کی جاتی ہے۔

اس سے قبل اس کمیٹی میں صرف اراکینِ قومی اسمبلی شامل ہوتے تھے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اراکینِ سینیٹ بھی اس کا حصہ بنائے جاتے ہیں۔

اگرچہ ایسا کوئی اصول موجود نہیں جس کے تحت پی اے سی کی سربراہی صرف اپوزیشن جماعتوں کو ہی دی جائے گی لیکن یہ روایت ہے کہ حکومت کے مالی معاملات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے یہ عہدہ اپوزیشن کو ہی دیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں