ٹوئٹر کی خریداری کا معاہدہ ڈیڈ لاک کا شکار ہے، ایلون مسک

دنیا کے امیر ترین افراد میں سرفہرست نامور شخصیت ایلون مسک نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالر کے عوض خریدنے کا فیصلہ سوشل میڈیا نیٹ ورک پر موجود جعلی اکاؤنٹس کی تعداد کے بارے میں ’انتہائی اہم‘ سوالات کے سبب تعطل کا شکار ہے۔

ڈان اخبار میں شائع خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق قطر اکنامک فورم میں اس حوالے سے سوالات پوچھے جانے پر ایلون مسک جواب دینے سے گریزاں نظر آئے، انہوں نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا ’کچھ حل طلب معاملات تاحال باقی ہیں، اس میں ان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ ٹوئٹر پر جعلی اور اسپیم اکاؤنٹس کی تعداد 5 فیصد سے کم ہے جبکہ میرے خیال میں ٹوئٹر استعمال کرنے والے بیشتر افراد کا تجربہ اس سے مختلف ہے‘۔

ٹیسلا کار اور اسپیس ایکس ایکسپلوریشن کے سربراہ نے کہا کہ ’لہذا ہم ابھی تک اس معاملے پر اتفاق رائے کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ ایک بہت اہم معاملہ ہے‘۔

ایلون مسک نے کہا کہ ٹوئٹر کے قرض کے بارے میں بھی سوالات ہیں اور یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا شیئر ہولڈر اس معاہدے کی حمایت کریں گے؟

انہوں نے کہا ’لہذا میرے خیال میں معاہدے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے یہ 3 مسائل درپیش ہیں جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

ایلون مسک نے کہا کہ وہ شمالی امریکا کی 80 فیصد آبادی اور دنیا کی نصف آبادی کو ٹوئٹر پر لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی چیز ہونی چاہیے جو لوگوں کو پسند آئے، ظاہر ہے کہ یہ ایسی جگہ نہیں ہو سکتی جہاں وہ بے چینی محسوس کریں یا ہراساں ہوں اور اسے استعمال نہ کریں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں اظہارِ رائے کی آزادی اور رسائی کی آزادی میں بڑا فرق ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ آپ عوامی مقامات پر جو بھی کہنا چاہیں اسے کہنے کی لگ بھگ مکمل آزادی آپ کو حاصل ہے لیکن آپ جو کچھ بھی کہتے ہیں، بیشک وہ متنازع ہو، اسے پورے ملک میں نشر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایلون مسک نے کہا کہ ’لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ٹوئٹر کی عمومی حکمت عملی یہ یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو وہ کہنے دیں جو وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کہنا چاہتے ہیں لیکن پھر اس چیز کو محدود کریں کہ ٹوئٹر صارفین کی ترجیحات کے مطابق کون کون اسے دیکھ سکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو ان کا کردار ٹوئٹر کو آگے بڑھانا ہوگا جیسا کہ انہوں نے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے معاملے میں کیا۔

ایلون مسک نے کہا کہ امکان ہے کہ آئندہ 3 ماہ میں ٹیسلا کے ملازمین کی تعداد میں تقریباً 3.5 فیصد کمی آئے گی لیکن ایک سال میں یہ تعداد دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائے گی۔

2024 میں اگلے امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق سوال پر ایلون مسک نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کس کی حمایت کرنی ہے لیکن وہ امیدوار کی انتخابی مہم میں 2 سے ڈھائی کروڑ ڈالر لگانے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل ایلون مسک یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹیس کی حمایت کر سکتے ہیں۔

نیوز ڈیسک

ای این این ٹی وی کا نیوز ڈیسک نمائندگان کی خبروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات کو اپنی قارئین کے لیے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سندھ ہائی کورٹ نے عامر لیاقت کی قبر کشائی، پوسٹ مارٹم کا حکم معطل کردیا

بدھ جون 22 , 2022
رواں ماہ انتقال کر جانے والے معروف اینکر پرسن اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ نے معطل کردیا۔ عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم رکوانے کے لیے ان کے بیٹے احمد عامر اور دعا عامر […]

کیلنڈر

جون 2022
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  
%d bloggers like this: