ضمیر جاگ گئے۔۔۔

آج کل ہر طرف ضمیر جاگنے کی بات ہورہی ہے، جب سے عدم اعتماد کی تحریک پارلیمنٹ میں جمع ہو ئی ہے تب سے ملک میں لوگوں کے ضمیر جاگنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن حکومتی اراکین کے ضمیروں کو جگانے میں لگی ہوئی ہے۔آخرکار حکومتی رکن راجہ ریاض کے منہ سے نکل ہی گیا کہ میرا ضمیر ن لیگ کی ٹکٹ پر جاگا ہے اور میں عمران خان کی حکومت سے کرپشن کی وجہ سے تنگ ہوکر اپوزیشن کی طرف آیا ہوں اور میرے ساتھ دودرجن حکومتی ایم این ایز ہیں لیکن منظرعام صرف 12لوگ آئے ہیں ۔یہ سارے کے سارے اسلام آبادسندھ ہاؤس میں موجود تھے ۔میڈیا میں باقاعدہ ان کی کوریج کرائی گئی ،پرائم ٹائم اینکر زکو لنچ پر بلایا گیا اور ان لوگوں سے بات کرائی گئی ۔

ان میں فیصل آباد سےراجہ ریاض ،نواب شیر وسیر ،مظفر گڑھ سے باسط سلطان بخاری ،پشاور سے نورعالم خان،ملتان سے رانا قاسم نون،احمد حسین ڈیہڑ،وجیہہ اکرم اور بہاولنگر سے غفار خان وٹو،راجن پور سے ریاض مزاری،ڈی جی خان سے خواجہ شیراز،حیدر آباد سے نزہٹ پٹھان اور تھر سے ڈاکٹر رمیش کمارہیں۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو ووٹ کے ذریعے نہیں بلکہ مخصوص نشتواں پر ایم این اے بنے ہیں جو کہ خالص پارٹی کی سیٹ ہوتی ہے اس میں اس بندے یا بندی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

یہ نشست اس رکن کے پاس پارٹی کی امانت ہوتی ہے لیکن اس میں حضرت علی ؓکا قول ہے جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو،اب جس وقت پارٹی کو ان اراکین کی ضروت ہے یہ لوگ اپوزیشن کے پاس جاکر بیٹھ گئے ہیں ۔ایک بات یہ بھی ہےکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر پارٹی کو پہلے بھی شک تھا جب یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہوئے تھے تو اس وقت بھی 16 حکومتی ایم این ایز پارٹی کے خلاف گئے تھے ۔پھر اس کے بعد وزیراعظم کو اعتماد کو ووٹ لینا پڑا تھا ۔جب وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لیاتھا تب سارے ایم این ایز جو سینیٹ کے الیکشن میں حفیظ شیخ کے خلاف گئے تھے اور یہ سیکرٹ ووٹنگ تھی اس لیے حکو مت یقین سے کسی کا نام نہیں لے سکتی تھی لیکن جب شو آف ہینڈ کا وقت آیا جب اعتمادکے ووٹ کی باری آئی تو یہ سب لوگ وزیراعظم کے ساتھ تھے لیکن اب حالات مختلف ہیں۔

اپوزیشن نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے، اس وقت بھی شو آف ہیڈ ہی ہے آپ نے سب کے سامنے اپنے پارٹی قائد کے خلاف جانا ہے لیکن بحر حال ان 12 لوگوں نے بڑا جگرا دکھایا ہے۔ سب کے سامنے آئے ہیں لیکن حکومت یہ سمجھتی ہے ان لوگوں نے پیسوں سے اور ن لیگ کی ٹکٹ سے اپنے ضمیر بیچے ہیں ۔ٹکٹوں کی بات تو مریم نواز بھی جلسوں میں کر چکی ہیں کہ تحریک انصاف کے کے لوگ ن لیگ کی ٹکٹ کے لیے پارٹی کو چھوڑیں گے ۔راجہ ریاض خود مان چکے ہیں کہ میں نے اگلا الیکشن ن لیگ کے ٹکٹ سے لڑوں گا لیکن پورے پاکستان نے دیکھا کہ کس طرح سے یہ لوگ سندھ ہاؤس میں پائے گئے۔

پیپلز پارٹی جو خود کو ایک جمہوری پارٹی کہتی ہے اور جمہوریت کے لیے اپنی شہادتیں بھی لوگوں کو بتاتی ہے وہ کس طرح سے ایک منتخب حکومت کو گرانے کے لیے اس حد تک جا سکتی ہے ،ایک صوبے میں ان کے پاس حکومت بھی ہے اس صوبے کے وسائل کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا رہی ہے، صوبائیت کا تعصب بھی دیا جا رہا ہے، وفاق کی علامت سمجھے جانے والے سندھ ہاؤس کو اپنے سیاسی مفادات میں استعمال کر ہی ہے۔ پیپلز پارٹی کا یہ چہرہ سندھ کے لوگوں کے لیے بہت شرمندگی کا باعث تھا ،سندھ ہاؤس وفاق میں سندھ حکومت کی پہچان ہے ۔اس طرح کے کام کر کے سندھ ہاؤس کے تشخص کو بھی نقصان پہچایا گیا۔ سندھ ہاؤس پر صرف صرف سندھ کے لوگوں کا حق ہے کیونکہ سندھ کے ٹیکسوں کے پیسوں سے سندھ ہاؤس چلتا ہے جس طرح سے اس دن سندھ ہاؤس ایک سیاسی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا جس طرح سے تحریک انصاف کے اراکین کے ضمیروں کے سودے ہو رہے تھے جس طرح سے سندھ کو بدنام کیا جارہا تھا یہ منظر بہت خوفناک تھا۔

بھٹو صاحب اور شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ کے سندھ کے ساتھ زرادری صاحب نے بہت ظلم کیا ہے، زرادری صاحب کو چاہیے تھا کہ ایسی سیاست سے سندھ ہاؤس کو دور رکھتے، کہتے کہ سیاست اپنی جگہ لیکن یہ کام میں سندھ ہاؤس میں نہیں کروں گا۔ ان باغی لوگوں کو سندھ ہاؤس کی بجائے کہیں اور رکھا جائے لیکن میں سندھ ہاؤس میں ایسے کام کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن جو تحریک انصاف کے مشتعل لوگوں نے سندھ ہاؤس کے ساتھ کیا وہ بھی قابل مذمت ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ سندھ ہاؤس کی خود حفاظت کرتی کیونکہ سندھ ہاؤس بھی ریاست کی بلڈنگ ہے۔سندھ ہاؤس ریاست میں وفاق علامت ہے اس کے تشخص کو پامال نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن جب ایک ریاستی بلڈنگ کو سیاسی منڈی بنایا جا رہا ہو تو عوام کا ری ایکشن بھی آتا ہے ۔ جو کچھ ہوا سب افسوس ناک تھا ،شرمناک تھا۔ عوام کے ساتھ اور جمہوریت کے ساتھ مذاق تھا ۔لیکن اب حکومت نے ان منحرف اراکین کو شوکاز نوٹس جا ری کر دیئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ منحرف اراکین ان نوٹسز کا جواب کیا دیتے ہیں لیکن حکومت نے اپنے اراکین کو موقع دیا ہے کہ وہ واپس آجائیں لیکن جس طرح کے ملکی حالات چل رہے تلخی بڑھتی جارہی ہے ،منحرف اراکین کے گھروں کا محاصرہ بھی کیا جارہا ہے، سیاست میں گھر اور چاردیواری کے تقدس کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔ بات اب دن بدن انارکی کی طرف جا رہی ہے ، عوام میں نفرت کے بیج کو بویا جا رہا ہے۔

آپ دیکھیں جس طرح سے مولانا کے لٹھ بردار پارلیمٹ لاجز میں داخل ہوئے آخر کار حکومت کو پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کرنا پڑا۔ کچھ اپوزیشن کے ایم این ایز نے ان کو اپنے کمروں میں پناہ دی۔ جب ان کمروں سے ان لٹھ برداروں کو نکالا گیا تو اپوزیشن یہ کہہ رہی تھی کہ ان کی چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے لیکن اپوزیشن یہ نہیں بتا رہی تھی کہ یہ لٹھ بردار ان کے کمروں میں کیا کر رہے تھے۔

ایک عجیب سا منظر لگ رہا تھا، تحریک انصاف کےمنحرف اراکین بھی یہ کہہ رہے تھے اس آپریشن کے بعد اب وہ پارلیمنٹ لاجز کو اپنے لیے غیر محفوظ سمجھتے ہیں اس لیے سندھ ہاؤس میں آئے ہیں ۔آپ دیکھیں حکومتی ایم این ایز جب خود کو غیر محفوظ سمجھیں تو ملک میں حالات کتنے خراب ہونگے ۔اب بھی عمران خان سمجھتے ہیں کہ عوام کاری ایکشن بھرپور آرہا ہے۔ امید ہے منحرف اراکین واپس پارٹی میں آجائیں گے۔فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ضمیر فروشوں کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں ان کے لیے ابھی بھی توبہ کے دروازے کھلے ہیں۔

دوسری طرف اپوزیشن بہت جلدی میں ہے، بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پیر تک اگر عدم اعتماد پرسیشن میں ووٹنگ نہ ہوئی تو ہم وہیں پارلیمنٹ میں دھرنا دیں گے پھر دیکھیں گے کہ وزرات خارجہ کی او آئی سی کی کانفرنس کیسے ہوتی ہے، اپوزیشن کی یہ دھمکی ریاست کو تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے سجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے او آئی سی کانفرنس میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا ۔

جہاں تک بات ضمیر فروشی ہے اب ضمیر کو بیچنا بہت مشکل عمل بن چکا ہے، جس طرح سے سوشل میڈیا کا دور ہے سیاستدانوں کا ہر عمل، ہر فعل عوام کے سامنے عیاں ہے۔ اب لوگ بیدار ہوچکے ہیں ،وہ زمانے گئے جب یہ جاگیردار عوام پر ظلم کرتے تھے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا تھا، ان کا عوام پر خوف ہوتا تھا، لوگ ڈر کے مارے ان کو ووٹ دیتے تھے ۔اب یہ لوگ اپنے حلقے کی عوام کے آگے جواب دہ ہیں۔ جس طرح سندھ ہاؤس میں عوام نے ان کے ضمیرکو بکتے دیکھا، پیسوں کی بات تو میں نہیں کہوں گا کیونکہ کوئی ثبوت تونہیں لیکن ٹکٹ پر ضرور بات کرتے ہیں کہ انھوں نے ٹکٹ پر اپنا ضمیر ضرور بیچا ہے کیونکہ راجہ ریاض نے ویڈیو میں کہا ہے کہ آنے والے الیکشن میں ن لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن لڑوں گا ۔

جس طرح سے ملک میں سیاست کا بازار لگا ہوا ہے، لوگوں کے ضمیر خریدے جا رہے ہیں یہ کوئی اچھا عمل نہیں ہےیہ ملک اور قوم کے لیے نقصان دہ ہے ۔یعنی اس ملک میں پیسے والاکچھ بھی کرسکتا ہے، جس کی مرضی آئے حکومت گرا دے ۔جس کی مرضی آئے حکومت بنا دے۔ اچانک لوگوں کو خواب آئیں ان کے ضمیر جاگ جائیں جس طرح چھانگا مانگا اور مری کی سیاست ماضی میں ہوئی یہ صرف پاکستان میں ہوتا آرہاہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کی کمزوری کی بھی سب سے بڑی وجہ ضمیر کا جاگنا ہے۔ اب عوام کو آگے نکلنا ہوگا ان ضمیر فروشوں کا احتساب کرنا ہوگا جو اپنے ذاتی فائدے کے لیے ملک میں اتتشار پھیلاتے ہیں۔

جس طرح سے سندھ ہاؤس میں ضمیر کو جگانے کے لیے ان لوگوں کو رکھا گیا ہے، سندھ کی عوام کو بھی سوچنا ہوگا کہ کس طرح سے ان کےٹیکس کے پیسوں سےلوگوں کے ضمیر کو جگایا جاتا ہے ۔اب بہت ہوچکی اب سندھ کی عوام کو آگے نکلنا ہوگا کہ ہمارا پیسہ صرف سندھ پر خرچ ہو ،سندھ کی عوام کو اچھی صحت ،تعلیم،صاف پانی ،سڑکیں ،امن وامان ،شہروں میں اچھا سیورج کا نظام چاہیے نہ کہ ان کا پیسہ ضمیر کی خریدوفروخت پر لگے۔ جس طرح کے ملکی حالات چل رہے ہیں ضمیر فروشی پر حبیب جالب کی نظم ہےجو کہ موجودہ ملکی حالات پر پوری اترتی ہے۔
ﺍﺏ ﮔﻨﺎﮦ ﻭ ﺛﻮﺍﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺠﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁ ﮐﮯ ﻟﯿﺠﺎﺅ
ﺍﻥ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﺏ ﺗﻮ ﻋﺰﺕ ﻣﺂﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮯ ﺿﻤﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺝ ﻧﯿﺘﯽ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﮦ ﻭ ﻣﻨﺼﺐ ﺧﻄﺎﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺷﯿﺦ،ﻭﺍﻋﻆ ،ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻋﺮ
ﺳﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺣﺒﯿﺐ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﮨﯿﮟ
ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻧﮧ ﺧﺮﺍﺏ ﺑﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
(حبیب جالب)

 

 

نیوز ڈیسک

ای این این ٹی وی کا نیوز ڈیسک نمائندگان کی خبروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات کو اپنی قارئین کے لیے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پی ٹی آئی منحرف اراکین اسمبلی کیخلاف سخت کارروائی کا آغاز

جمعہ اپریل 1 , 2022
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی میں منحرف اراکین کیخلاف سخت کارروائی کا آغاز ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 22 منحرف اراکین سامنے آئے ہیں جس پر پارٹی کی طرف سے […]

کیلنڈر

اکتوبر 2022
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  
%d bloggers like this: