ای این این نیوز حب لسبیلہ بلوچستان۔۔
رپورٹ یعقوب مردوئی۔۔۔۔
حب اور گردونواح میں شراب نوشی عام ہوگئی نوجوان نسل منشیات
کی عادی ہوگئی متعلقہ انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی سوالیہ نشان
نوجوان نسل ملک وملت کے مستقبل کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے،
جس پر ملک وملت کی ترقی وتنزل موقوف ہے لیکن افسوس یہ
سرمایا ہمارے سامنے لٹ رہا ہے برباد ہو رہا ہے اور ہم سب بے بسی کا
نشان بنے ہوئے ہیں روزانہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی
اخلاقی بے راہ روی کی خبریں سامنے آرہی ہیں جس کی ایک وجہ
منشیات ہے ۔اقلیتوں کے نام پرحکومت کی منظوری سے حب شہر میں
کئی وائن شاپس ہیں، شراب کھلے عام دستیاب ہے اور با آسانی شراب
کی دستیابی سے عام لوگوں کے علاوہ نوجوان نسل میں اس کا
استعمال تیزی سےبڑھ رہا ہے ۔ زرائع کے مطابق حب ندی آر سی ڈی
شاہراہ پر ایک وائن شاپ یے جہاں رات دیر تک شراب کی فروخت
جاری رہتی دوسری طرف اسی عمارت کے بیسمنٹ میں بیٹھ کر
نوجوان شراب نوشی بھی کر رہے ہوتے ہیں مسلمانوں شراب نہ
فروخت کرنے کا سائن تو ہر وائن اسٹور پر لیکن افسوس کے خریدار
بھی مسلم ہیں جبکہ وائن اسٹور پر کام کرنے والےملازم خود اس بات
کو تسلیم بھی کرتا ہے، اگر اس وائن اسٹور پر نظر ڈالیں تو نوعمر
لڑکے وہاں سے شراب خریدتے دکھائی دیں گے ۔چند پیسوں کی خاطر
نوجوانوں کو تبائی میں ڈالا جا رہا ہے ۔ شراب اور دیگر منشیات پر
پابندی کا اطلاق کرانے میں محکمہ ایکسائزنہ صرف مکمل طور پر غیر
فعال دکھائی دیتا ہے بلکہ زرائع بتاتے ہیں منشیات فروشوں خاص
طور پر شراب کی فروخت کرنے والوں کو اس محکمے کے بعض
افسران کی مبینہ سرپرستی حاصل ،یہی وجہ ہے کہ آج تک منشیات
کے اڈوں کے خلاف ایکسائز پولیس کی جانب سے کوئی خاطر خواہ
کارروائی سامنے نہیں آئی۔ انہتائی افسوس کا اظہار کرتے ایک
نوجوان نے بتایا بلکہ اپنی ایک تحریر میں زکر بھی کیا کہ اب کھیلوں
کے میدانوں میں شراب (بیئر) کی بوتلیں ملتی ہے جو لمحہ فکریہ ہے ۔
جب بغیر کسی روک ٹوک کے شراب سمیت دیگر منشیات کی فروخت
ہو تو معاشرے میں بگاڑ کا باعث تو ہوگا۔
یہ خبر ( یعقوب مردوئی- ای این این نمائندہ ) نے ارسال کی ہے۔