امیرِ ملّتؒ کا تحریکِ پاکستان میں کردار

(محمد فیاض – ای این این نمائندہ)

*امیرِ ملّتؒ کا تحریکِ پاکستان میں کردار* نظریہ پاکستان کے خمیر میں اسلام کا وہ آفاقی فکر شامل ہے جسکی رو سے”الکفر ملتہ واحدة“کے مصداق زمین ایک ہونے کے باوجود بھی برصغیر کے مسلمان اور ہندو اکثریت ایک قوم نہیں ہو سکتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی مسلم لیگی قیادت جوکہ مسلمانوں پر مشتمل تھی،اس نے ایک الگ قوم کیلٸے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا جب قاٸدِاعظم محمد علی جناحؒ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو انکے سامنے بھی مسلمان قوم کے الگ تشخص کا اسلامی نظریہ تھا،گویامسلم لیگ دین کی بنیاد پر استوار ایک سیاسی تحریک تھی،جسے پروان چڑھانے اور منزل سے ہمکنار کرنے کیلٸے دینی حلقوں کا سامنے آنا یا دینی شخصیات کا بھرپور کردار ادا کرنا کوٸ اچنبھے کی بات نہ تھی،یہی وجہ تھی کہ جب دینی حلقوں میں سے پیرانِ عظام اور علما ٕ دین نے اس مقدس جہاد میں شامل ہونے کا ارادہ کیا تو دُنیا نے دیکھا کہ مسلمانوں کی مذہبی شخصیات میں بھی ایک واضح تقسیم سامنے آگٸ۔علما ٕ کا ایک گروہ ہندوستان کے باشندے ہونے کے ناطے ہندومسلم کو بھاٸ بھاٸ اور ایک قوم کہنے لگا۔جبکہ ایک اور گروہ جس میں علما ٕ دین کیساتھ ساتھ پیرانِ عظام بھی شامل تھے،انہوں نے یہ آواز حق بلند کی کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان اپنے عقیدے اور نظرٸیے کی بنیاد پر ایک الگ ملت ہیں جس کیلٸے ایک آزاد اسلامی ریاست کا حصول از حد ضروری ہے۔امیرِ ملّت پیر سیّد جماعت علی شاہؒ خالصتاً خانقاہی نظام کے ایک درویش تھے۔اور پورے ہندوستان میں انکے ارادت مندوں اور عقیدت مندوں کی کمی نہ تھی،انہوں نے مسلم لیگ سے بھرپور تعاون کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جو آپکے روحانی تصرف کے باوصف جنگل کی آگ کی طرح پوری ہندوستان میں پھیل گیا۔اور آپکے مریدین و متوسلین کی ایک بہت بڑی تعداد نے تحریک پاکستان کو کامیاب بنانے کیلٸے قاٸدِاعظم کے مشن کو گھر گھر عام کردیا۔ ٕ1936 ٕ میں جب قاٸدِاعظم نے مسلم لیگ کی تنظیم نو شروع کی تو اس وقت سے حضرت امیرِ ملّت پیر سیّد جماعت علی شاہؒ نے قاٸدِاعظم کے مشن کی بھرپور حمایت کا جو سلسلہ شروع کیا وہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے تک نہایت زوروشور کیساتھ جاری رہا۔جب مسلم لیگ کے مالی وساٸل اتنے نہ تھے کہ تحریکِ پاکستان کی کما حقہ جاری رکھا جاسکتا تو اس کٹھن وقت میں پیر صاحب وہ پہلے مسلمان تھے جنہوں نے اپنی جیب سے اس زمانے میں ایک لاکھ روپیہ چندہ دیا نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے مسلم لیگ کی مالی اعانت کیلٸے گھر گھر اور مسلمانوں کی دکانوں پر جاجا کر چندہ اکٹھا کیا۔یہ وہی زمانہ تھا جبکہ ایک طرف وہ علما ٕ دین جو پیروں اور گدیوں کے خلاف تھے،گاندھی کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلٸے آل انڈیا کانگریس میں شامل تھے اور دوسری طرف خانقاہ نشینوں نے قاٸدِاعظم کو پاکستان بنانے کیلٸے اپنی ہر ممکن امداد کا نہ صرف یقین دلایا بلکہ عملاً اس جہاد میں مسلم لیگ کیساتھ رزم سے بزم تک سرگرم عمل رہے۔ قاٸدِاعظمؒ نے امیرِملتؒ کی پیش گوٸ پر پاکستان بننے کا اعلان کر دیا تھا۔ حضرت امیرِملت نے ایک موقع پر نہایت وثوق کیساتھ سبزپرچم ہلا کر پاکستان بننے کی پیش گوٸ کردی جب انکی پیش گوٸ کا قاٸدِاعظمؒ کو علم ہوا تو انہوں نے لاہور میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوۓ یہ اعلان کیا کہ”میرا ایمان ہے کہ پاکستان ضرور بنے گا۔“ امیرِ ملت نے کانگریسی علما ٕ اور احراری خطیبوں کے جلسوں کا تنہا مردانہ وار مقابلہ کیا۔حضرت امیرِملت کی شخصیت اور روحانیت میں ایسی قوت تھی کہ باوجود ضعف اور کمزوری کے ان دنوں میں آپ نے جگہ جگہ جلسے کیے۔۔ پاکستان بنانے میں خانقاہ نشینوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔جون 1945 ٕ کا زمانہ تھا کہ امیرِملتؒ نے تحریک پاکستان کی مکمل تاٸید و حمایت میں ایک زوردار بیان جاری کیا،جسکا عنوان تھا”تحریک پاکستان اور صوفیا ٕ کرام“اس تاریخی بیان کا خلاصہ یہ تھا کہ محمدعلی جناحؒ ہمارے بہترین وکیل ہیں اور مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نماٸندہ جماعت ہے لہٰزا سب مسلمان قیام پاکستان کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ حضرت امیرِملتؒ کے اس بیان کی تاٸید ہندوستان کے تمام مشاٸخ عظام نے کی جن میں سے چند کے اسما ٕ گرامی یہ ہیں :سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ گورداسپود حضرت پیر سید محمد افضل شاہ امیرحزب اللّہ جلالپور شریف ضلع جہلم،حضرت ملیاں علی محمد سجادہ نشین بسی شریف،حضرت خواجہ غلام فریدالدین سجادہ نشین تونسہ شریف اور دیگر بیشمار مشاٸخ عظام گویا اس طرح حضرت امیرِملت کی شبانہ روز مساعی سے تحریک پاکستان کو غیر منقسم ہندوستان میں پھیلے ہوٸے تمام سجادہ نشینوں کی نہ صرف تاٸید حاصل ہوٸ بلکہ یہ تمام خانقاہیں لاکھوں مریدین سمیت قافلہ تحریک پاکستان میں عملاً شامل ہوگٸیں۔اور اسطرح قاٸدِاعظمؒ کے مشن کو مذہبی سطح پر علما ٕ دیوبند سے پہنچنے والے نقصان کی نہ صرف تلافی ہوٸ بلکہ ملت اسلامیہ کو اپنوں میں سے غداروں کی پہچان بھی ہوگٸ۔ یہاں ایک بات جو خاصی اہم اور قابل توجہ ہے،اور وہ یہ ہے کہ جب تحریک پاکستان شروع ہوٸ تھی تو اس وقت قاٸدِاعظم یا انکے کسی بھی رفیق کار کی طرف سے حضرت امیرِملت کو شمولیت کی کوٸ باقاعدہ دعوت نہیں دی گٸ تھی لیکن یہ حضرت امیرملت پیر سید جماعت علی شاہؒ کی اعلیٰ ظرفی اور مسلمانان ہند کیلٸے انکی درمندانہ دلچسپی تھی کہ انہوں نے ازخود مسلم لیگ کو دینی و مذہبی حلقوں کی طرف سے وہ مضبوط اور مٸوثر تاٸید فراہم کردی جو آل انڈیا کانگریس کو علما ٕ دیوبند اور مولانا ابوالکلام آزاد کی۔۔۔۔۔۔۔ حضرت امیرِملت پیرسیّد جماعت علی شاہؒ کا مزار پُرانوار آج بھی علی پور سیّداں ضلع نارووال میں مرجع خلاٸق ہے۔۔۔ "بنا کر دند خوش رسمے بخالک وخون خلفیدن خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را” یہی وہ تاریخی تاٸید تھی جس نے قاٸدِاعظمؒ کی ایک بہت بڑی پریشانی کا ازالہ کیا۔آج اس بات کی ضرورت ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کو بتایا جاٸے کہ مسلمانوں کیلٸے ایک الگ وطن کے حصول میں ان خانقاہ نشینوں کا کتنا حصہ ہے جنکے ذکر کو آج وہ لوگ دانستہ بیان نہیں کرتے جنکا سیاسی شجرہ علما ٕ دیوبند سے جاملتا ہے۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہماری کسی بھی حکومت نے سرکاری سطح پر یہ اعتراف نہیں کیا کہ تقسیم سے پہلے ہندوستان میں موجود تمام سجادہ نشینوں نے تحریک پاکستان میں کس قدرگراں قدر خدمات سرانجام دی تھیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ملت کے درویشان بے کلیم کو سرکاری اعزازات دٸیے جاٸیں کیونکہ انکی انہیں ضرورت نہیں لیکن نٸ نسل کو یہ ضرور بتایا جاٸے کہ برصغیر کی تاریخ میں اشاعت اسلام سے لیکر تحریکِ پاکستان تک صوفیہ کرام نے ایک اسلامی سیاسی قوت کی صورت اپنی قیادت کے ہاتھ مضبوط کٸے تاکہ یہاں کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ جلی حروف سے لکھی جاٸے۔ آج ہم قاٸدِاعظم،علامہ اقبال اور دیگر اکابرین تحریکِ پاکستان کے مزاکرات پر کس قدر اہتمام سے فاتحہ خوانی کیلٸے جاتے ہیں اور سرکار کی طرف سے بھی اس بات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے لیکن ان عظیم خانقاہ نشینوں کے مزارات پر اگر کوٸ فرید بھی فاتحہ پڑنے جاٸے تو اسے شرک و بدعت کہا جاتا ہے جنکی بھرپور عملی اعانت سے قاٸدِاعظم کیلٸے پاکستان کا حصول بہت آسان ہو گیا تھا۔ حق تو یہ تھا کہ حضرت امیرِملت سمیت ان تمام پیرانِ عظام کے مزارات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا جو تحریک ِپاکستان کے قافلے میں اسی طرح پیش پیش تھے ،جیسے مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا حسین احمد مدنی اور دیگر اکابرین دیوبند،آل انڈیا کانگریس کے مشن میں جان و دل سے شامل تھے۔


یہ خبر (محمد فیاض – ای این این نمائندہ)نے ارسال کی ہے

نیوز ڈیسک

ای این این ٹی وی کا نیوز ڈیسک نمائندگان کی خبروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات کو اپنی قارئین کے لیے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کوٹ سبزل : قادر علی کی خصوصی نیوز رپورٹ

جمعہ اگست 14 , 2020
کوٹ سبزل : ( قادر علی : نمائندہ ای این این ) غریب کی فریاد سنئے ۔۔۔ اعلی حکام سے اپیل ہے کہ انکی مدد کی جائے ۔

کیلنڈر

اکتوبر 2020
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  
%d bloggers like this: